فیض حمید سرکاری گواہ؟ حقیقت کھل کر سامنے آگئی , وکیلِ دفاع کی تیز ردعمل!
پاکستانی سیاسی منظرنامے میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب مختلف میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید مبینہ طور پر عمران خان کے خلاف سرکاری گواہ بننے پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم ان خبروں پر آج ایک بڑی بریکنگ سامنے آ گئی ہے۔
عمران خان کی قانونی ٹیم کے اہم رکن بیرسٹر میاں علی اشفاق نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹس قیاسی، من گھڑت اور محض سیاسی تاثر قائم کرنے کی ناکام کوشش ہیں۔
بیرسٹر میاں علی اشفاق کا کہنا تھا کہ:
“ان خبروں میں ذرا بھی صداقت نہیں، نہ کوئی رابطہ ہوا، نہ کوئی اشارہ اور نہ ہی ایسی کوئی صورتحال موجود ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ جنرل (ر) فیض حمید کسی بھی کیس میں گواہ بننے جا رہے ہیں۔”
ان کے مطابق سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں پھیلائی جانے والی یہ چہ مگوئیاں صرف سیاسی دباؤ اور بیانیہ بنانے کی کوشش ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ وضاحت پی ٹی آئی کے حلقوں میں سیاسی طور پر بڑی سانسِ راحت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جبکہ مخالف بیانیے کو واضح دھچکا لگا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ پاکستان کی طاقتور سیاسی و عسکری فائل کی ایک اور قسط ہے، جہاں ہر دن ایک نیا موڑ اور نئی کہانی جنم لے رہی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ افواہیں یہیں دم توڑتی ہیں یا آنے والے دنوں میں ایک اور سیاسی تنازع کی صورت اختیار کرتی ہیں۔

