جنرل نیازی نے ہتھیار کیوں ڈالے؟
سقوطِ ڈھاکہ کے بعد اگر کسی ایک جھوٹے بیانیے نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا تو وہ بھارتی جنرل جیکب کا وہ دعویٰ ہے جو برسوں سے پاکستان میں بغیر تحقیق، بغیر سوال اور بغیر حوالہ دہرایا جا رہا ہے۔ جنرل جیکب یہ کہتے رہے کہ “اگر جنرل نیازی ہتھیار ڈالنے پر رضامند نہ ہوتے تو بھارتی فوج کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا اور جنگ طویل ہو جاتی”۔ یہ جملہ سننے میں ڈرامائی ضرور ہے، مگر حقیقت میں یہ تاریخ کی سب سے بڑی تحریف ہے۔حقائق اس دعوے کی مکمل نفی کرتے ہیں۔ جنگ کے پہلے ہی دن مشرقی پاکستان میں بھارتی فوج کی تعداد پاکستانی فوج سے کم از کم چار گنا زیادہ تھی۔ پاکستان کی کل اصل لڑنے والی فورس 45 سے 55 ہزار کے درمیان تھی، جبکہ بھارت نے تقریباً دو لاکھ فوج، مکمل فضائی برتری، بحری ناکہ بندی اور مکتی باہنی کے ساتھ حملہ کیا۔ ایسے میں “فوج کی کمی” کا بیانیہ نہ صرف جھوٹ ہے بلکہ عسکری اصولوں کی توہین بھی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بھارتی فوج واقعی دباؤ میں تھی تو پھر کس چیز کی کمی تھی؟ کیا فوج کم تھی؟ نہیں۔ کیا اسلحہ کم تھا؟ نہیں۔ کیا عالمی حمایت میسر نہیں تھی؟ ہرگز نہیں۔ سوویت یونین کھل کر بھارت کے ساتھ کھڑا تھا اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے خلاف بار بار ویٹو استعمال کیا جا رہا تھا۔ دراصل جنرل جیکب کا یہ بیان اپنی فتح کو غیر معمولی ثابت کرنے کی ایک کوشش تھی، نہ کہ زمینی حقیقت کا اظہار۔اسی جھوٹے فریم کے اندر ایک اور بیانیہ گھڑا گیا — اور وہ تھا جنرل نیازی کی کردار کشی۔ پاکستانی میڈیا میں، خاص طور پر کچھ نام نہاد سینئر صحافیوں نے، جنرل نیازی پر ایسے الزامات لگائے جو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ تھے بلکہ شرمناک بھی۔ ان میں سب سے مشہور الزام یہ تھا کہ جنرل نیازی بنگالی افسروں سے “گرل فرینڈ کا نمبر” مانگتے تھے۔یہ الزام عقل، وقت اور تاریخ تینوں کے خلاف ہے۔ 1971 میں نہ موبائل فون تھے، نہ وہ سماجی ماحول، مگر سنسنی خیزی کی دوڑ میں ایک قومی سانحے کو ذاتی مذاق بنا دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر واقعی یہ سب سچ تھا تو آج تک کوئی تحریری ثبوت، کوئی سرکاری ریکارڈ، کوئی غیر جانبدار گواہی کیوں سامنے نہیں آئی؟اسی طرح ایک اور واقعہ بار بار دہرایا جاتا ہے کہ جنرل نیازی نے کسی بنگالی افسر کو گالی دی، جس پر وہ افسر باتھ روم میں جا کر خود کو گولی مار بیٹھا، مگر “بچ گیا”۔ یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ یہ واقعہ ہوا یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اگر معاملہ اتنا ہی شدید تھا تو اس افسر نے خود کو کیوں گولی ماری؟ جنرل نیازی کو کیوں نہیں؟حقیقت یہ ہے کہ گالی غصہ پیدا کرتی ہے، ڈپریشن نہیں۔ اگر کوئی افسر اس حد تک ذہنی دباؤ میں تھا کہ خودکشی کی کوشش کرے، تو اس کی وجہ ایک جملہ نہیں بلکہ شکست، بغاوت، ریاستی ٹوٹ پھوٹ، بھارتی حملہ اور جنگ کا انجام تھا۔ ان عوامل کو چھپا کر سارا الزام ایک شخص پر ڈال دینا بددیانتی کے سوا کچھ نہیں۔دسمبر 1971 میں جنرل نیازی ایک ایسے محاصرے میں تھے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ڈھاکہ چاروں طرف سے گھرا ہوا، رسد ختم، فضائی اور بحری مدد صفر، مغربی پاکستان سے کوئی کمک ممکن نہیں۔ ایسے میں مزاحمت جاری رکھنا صرف لاشوں کی تعداد بڑھاتا، نتیجہ نہیں بدلتا۔یہاں ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے: کچھ اعلیٰ فوجی افسران نے اپنی اسٹریٹجک اور سیاسی ناکامیوں کا بوجھ جنرل نیازی پر ڈال دیا، تاکہ ادارہ جاتی غلطیوں پر پردہ ڈالا جا سکے۔ جنرل نیازی نے ہتھیار ڈال کر دراصل باقی بچی ہوئی فوج اور شہری آبادی کو بچایا، مگر تاریخ میں انہیں مجرم بنا دیا گیا۔سقوطِ ڈھاکہ ایک قومی سانحہ تھا، مگر اس سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ ہم نے اس پر سچ بولنے کے بجائے جھوٹ کو سہارا بنایا۔ جنرل جیکب کا بیانیہ دہرایا گیا، جنرل نیازی کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا، اور اصل ذمہ داریاں دھند میں چھپا دی گئیں۔تاریخ افراد سے نہیں، فیصلوں اور نظام سے سوال کرتی ہے۔ جب تک ہم یہ سوال نہیں کریں گے، 16 دسمبر صرف ایک تاریخ رہے گا، سبق نہیں بنے گا۔


Pingback: مارچ 1971 فوجی آپریشن کے دوران شیخ مجیب الرحمٰن کو قتل کیوں نہیں کیا ؟