جنریشن زی کے مسائل
حذیفہ اشرف
جنریشن زی، 1996سے2012 کے درمیان پیدا ہونے والی نسل کو جنریشن زی کہا جاتا ہے اور میں خود بھی اسی جنریشن کا حصہ ہوں مگر اس جنریشن کے کچھ مسائل ہیں یہ چاہتے ہیں کہ جو ہم سوچیں جو ہمیں درست لگے یا جو بات ہمیں پسند ہو وہی حقیقت ہونی چاہیے حالانکہ ایسا نہیں نہیں ہو سکتا جنریشن زی کا ماننا ہے کہ جیسے ہم بولیں جیسے ہم چاہیں ویسا ہی سسٹم تبدیل ہو جانا چاہیے یا اسے اس بات کو سچ تسلیم کر لینا چاہیے جو ہم سوچتے ہیں مگر اس حقیقی دنیا کے اندر خیالات سے تبدیلی لانا مشکل ہے حقیقتوں کو بدلنے کے لیے طاقت وقت اور محنت درکار ہوتی ہے اور حقیقت کو ہ بدل نہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی جنریشن زی یہ چاہتی ہے کہ دنیا کا طاقتور ترین ملک یا کوئی طاقتور ترین فرد بھی انہی قوانین کو فالو کرو جو کہ ایک عام انسان یا چند لوگ پسند کریں گے یا ہم خود پسند کرتے ہیں مگر کیا کہیں کہ دنیا میں سیاست اور طاقت کا نظام اس طرح بالکل بھی نہیں چلتا طاقتور ہمیشہ کمزور کی بات نہیں سنتا بلکہ کمزور کو اپنی بات منوانے کے لیے طاقت حاصل کرنا پڑتی ہے پاکستان میں بیٹھی ہوئی جنریشن زی اس بات کی غلط فہمی کا شکار ہے کہ پاکستان ایک دبا ہوا ملک ہے جو صرف امریکہ کی سنتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کئی مواقعوں پر امریکہ کی خواہشات کی خلاف بھی فیصلے کرتا رہا ہے مگر یہ فیصلے ہمیشہ زمینی حقائق اور حالات کو مد نظر رکھ کر کیے جاتے ہیں دنیا کے اندر محض پانچ ہی ممالک پوری دنیا کو کنٹرول کرتے ہیں ان ممالک کے بغیر دنیا کے نظام نہیں چل سکتا اور ان کی مرضی کے بغیر کوئی بھی عالمی اقدام کرنا ممکن نہیں یہ بات جنریشن زی کو سمجھ ہی نہیں اتی کہ ان ممالک کے پاس ویٹو کا اختیار بھی حاصل ہو اور وہ جب چاہیں جس کے خلاف اس اختیار کو استعمال کر سکتے ہیں کچھ عرصہ قبل میرے ایک قریبی دوست مجھ سے بحث کرنے لگ گیا کہ امریکہ اور ایران اندر سے ملی ہوئی ہیں اور مثالیں وہ 1960 اور 70 کی دینی لگ گیا اب اس کو اس بات کا بالکل بھی علم نہیں اس وقت رضا شاہ پہلوی کی حکومت تھی جو کہ امریکہ کا فرنٹ مین تھا اس وقت ایران میں واضح طور پر پرو امریکی اسٹیبلشمنٹ موجود تھی جو سوویت یونین کی سخت خلاف تھی سوویت روس نے 1978 میں حالات بدلنے میں رضا شاہ پہلوی کے خلاف ایت اللہ خمینی کی حمایت کو حمایت کی رضا شاہ پہلوی ملک چھوڑ کر فرار ہو گیا اور ایت اللہ خانہ ہی نے انقلاب برپا کر کے اس اقتدار سنبھال لیا اس انقلاب کو سوویت یونین کی مکمل طور پر حمایت حاصل تھی اور یہیں پر تاریخ میں ایک نیا موڑ ایا پاکستان کی اہمیت اب امریکہ کے لیے کئی گنا بڑھ چکی تھی کیونکہ پاکستان جنوبی ایشیا میں امریکہ کا فرنٹ مین بن چکا تھا اج کل وینس ویلا کی معاملے میں کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ روس اور چین امریکہ کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے مگر یہ سوچ غلط ہے اصل میں یہ طاقت کی استعمال کا وقت طریقہ کار اور حکمت عملی ہوتی ہے جس کا فیصلہ طاقتور خود کرتا ہے جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو امریکہ نے بھی براہ راست جنگ نہیں لڑی بلکہ وسائل اسلحہ اور اتحادیوں کے ذریعے جنگ کو اگے بڑھایا امریکہ جانتا تھا کہ یوکرین کبھی بھی روس کو شکست نہیں دے سکتا مگر مقصد روس کے وسائل کو کمزور کرنا ہے نہ کہ مکمل طور پر ہرانا دوسری طرف روس بھی اپنی حکمت عملی کے تحت جدید ترین ہتھیار استعمال نہیں کر رہا بلکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے وسائل کو اہستہ اہستہ ختم کرنے پر توجہ دے رہا ہے جی وجہ ہے کہ امریکہ تھرڈ جنریشن وار کی ہتھیار بڑی حد تک ختم کر چکا ہے اور اب وہ فورتھ اور ففت جنریشن ہتھیار محفوظ رکھنا چاہتا ہے تاکہ مشکل وقت میں اس کے کام ا سکے روز نے مشرب وسطی میں امریکہ کو الجاگ کر ایک اور ماسک کھول دیا جہاں اسرائیل کے ذریعے امریکہ شام یمن لبنان فلسطین میں اپنے وسائل استعمال کر رہا ہے اسی طرح ایک طرف روس محفوظ رہتا ہے اور دوسری طرف امریکی مسلسل امریکی وسائل مسلسل کمزور ہوتے چلے جا رہے ہیں دشمن کو مکمل شکست دینا ضروری نہیں بس اس کی وسائل ختم کر دو امامی حمایت کم کر دو اور اسے اندر سے کمزور کر دو یہی عالمی طاقتوں کی حکمت عملی ہوتی ہے اور اسی حکمت عملی کے تحت وہ ایک دوسرے کے خلاف کاروائی کرتے ہیں بالکل ایسا ہی افغانستان میں ہوا جہاں امریکہ نے بے پناہ وسائل اور فوجی طاقت کا ضیاع کیا جس کے نتیجے میں عوامی غصہ بھی بڑا اور وسائل کا شدید نقصان ہوا یہ پروکسیس وارس اج بھی جاری ہیں اور انے والے وقت میں یہ مزید طویل ہو سکتی ہے ایران کے ذریعے روس اپنی حکمت عملی برقرار رکھے ہوئی ہے جبکہ امریکہ ایران کو کمزور کر کے روس کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے ان تمام عالمی کھیلوں کے میدان میں مسلم دنیا کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ اپس میں متحد نہیں ہو پاتی یہی تقسیم بڑی طاقتوں کی مفاد میں ہے اور اسی وجہ سے امریکہ بھی یہ نہیں چاہتا کہ روس اپنی پراکسس کا استعمال مشرب وسطی میں نہ کرے بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ وہ ہمیشہ یہاں کا ایک اہم پلیئر ضرور ہے اتنا کہ مسلم ممالک اپس میں لڑتے رہیں پاکستان کی اگر بات کی جائے تو یہاں پر بھی جنریشن زی کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ وہ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ایک طاقتور پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ بہت زیادہ طاقتور ہیں یہ ایک حقیقت ہے جس کے خلاف اچانک یا جذبات دی اقدامات کا عرض کرد گھر گرد نہیں ہوتے پاکستان کی عوام کے پاس نہ دو مکمل اختیار نہ بیرونی حمایت اور نہ ہی ایسا منظم نظام کی وہ بغاوت یا انقلاب برپا کر سکیں چین روس اور امریکہ تینوں اپنے مفادات کے لیے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کام کرتے ہیں اور اس لیے کسی بڑی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کرتے یہ ہے تعلق حقیقت ضرور ہے مگر سچ یہ ہے کہ طاقتور بننے کے لیے خواب نہیں زندگی میں بھر محنت کی محنت درکار ہوتی ہے شیجنگ پنگ نے 14 سال گمنانی اور قید جیسی زندگی گزاری بہاد میلاد میری پیوٹن نے بھی پوری زندگی انٹیلیجنس اور ملٹری میں محنت کی تب جا کے ان کے ہاتھ میں طاقت ائی طاقت ایسے نہیں ملتی کہ انکھ بند کر کے سو جائیں اور صبح وزیراعظم کی کرسی مل جائے یہ سہولت صرف بھر میں والدہ ہی دیتی ہے ریاست نہیں اگر جنریشن زی واقعی ہی نظام بدلنا چاہتی ہے تو غصے اور شکوے کو چھوڑ کر اپنے اپ کو اس قابل بنانا ہوگا کہ وہ فیصلے کرنے کی طاقت حاصل کریں محنت کریں خود کو مضبوط بنائیں اور مقام حاصل کریں پھر نظام بھی بدلے گا اور فیصلہ بھی اپ کے ہاتھ میں ہوگا

