"گورننس، نظم و ضبط(pk news) اور سیاسی روایت — حکومت کا دوٹوک مؤقف اور تحریکِ انصاف کی بدلتی حکمتِ عملی”
حکومتی ترجمانوں کے مطابق ہر سنجیدہ اور ذمہ دار حکومت کا بنیادی فوکس گورننس، عوامی مسائل کے حل اور ریاستی اداروں کی مضبوطی پر ہوتا ہے، نہ کہ جیلوں کے باہر شور، ہنگامہ آرائی یا انتشار جیسے مناظر پیدا کرنے پر۔ حکومتی مؤقف کے مطابق تحریکِ انصاف بانی چیئرمین کی رہنمائی میں اب فعال سیاست سے تقریباً کنارہ کش ہو چکی ہے اور موجودہ سیاسی بیانیہ اسی کمزور ہوتی عملی سیاست کا عکس ہے۔ حکومتی رہنماؤں نے یاد دہانی کروائی کہ جیلیں پاکستانی سیاست کا نیا تجربہ نہیں—ماضی میں ان کے اپنے قائدین بھی جیلیں کاٹ چکے ہیں، مگر کبھی ریاستی اداروں پر چڑھائی، دھرنے یا رات گئے احتجاجی دباؤ کی سیاست کو فروغ نہیں دیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سیاسی جدوجہد میں تحمل، برداشت اور آئینی راستے ہی جمہوری روایت کا حصہ ہیں، نہ کہ سڑکوں پر تصادم پیدا کرنے کی کوششیں۔

