معاشی بحران (pk news )سے استحکام تک: ڈیڑھ سال میں حکومت کی غیر معمولی معاشی بحالی
گزشتہ سال جب نئی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو معاشی ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کی اکثریت کا خیال تھا کہ ملکی معیشت اس قدر کمزور ہو چکی ہے کہ کوئی بھی حکومت زیادہ دیر تک دباؤ برداشت نہیں کر سکے گی۔ قرضوں کا بوجھ، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، مہنگائی اور سیاسی بے یقینی ہر سمت سے چیلنج بن کر سامنے کھڑی تھی۔ لیکن توقعات کے برخلاف حکومت نے ڈیڑھ سال کے مختصر عرصے میں ایسے فیصلے کیے جنہوں نے معیشت کو نہ صرف ڈیفالٹ کے خطرے سے نکالا بلکہ بتدریج استحکام کی طرف بھی گامزن کیا۔پالیسی اصلاحات، مالی نظم و ضبط، دوست ممالک سے سفارتی سطح پر مالی تعاون، اور سخت مگر ضروری معاشی اقدامات نے وہ بنیاد فراہم کی جسے ماہرین "ممکن حد سے زیادہ کامیابی” قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ مہنگائی اور عوامی مشکلات اب بھی موجود ہیں، مگر مجموعی طور پر معیشت خطرناک زون سے نکل کر ایک بہتر سمت میں کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔

