عمران خان کا دوٹوک فیصلہ: مذاکرات ممنوع، سڑکوں پر نکلنے کا حکم
پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان نے پارٹی پالیسی پر واضح اور سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کسی بھی قسم کے مذاکرات کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عمران خان نے پارٹی قیادت کو دوٹوک پیغام دیا ہے کہ جس نے بھی مذاکرات کی بات کی، اس کے لیے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔علیمہ خان کی جانب سے حالیہ بیانات کو عمران خان کی حتمی پالیسی قرار دیا جا رہا ہے، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں مذاکرات نہیں بلکہ اسٹریٹ پاور ہی واحد راستہ ہے۔ پارٹی کارکنان کو پہیہ جام ہڑتال، احتجاج اور سڑکوں پر نکلنے کا پیغام دے دیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 8 فروری کو دی گئی کال اسی حکمتِ عملی کا تسلسل ہے، جس کا مقصد حکومت پر دباؤ بڑھانا اور طاقت کے ذریعے سیاسی مطالبات منوانا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کی یہ پالیسی ملک میں سیاسی کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔پی ٹی آئی کے اندر بھی اس پالیسی پر تشویش پائی جاتی ہے، تاہم عمران خان نے کسی قسم کی لچک دکھانے سے انکار کر دیا ہے اور واضح کر دیا ہے کہ پارٹی صرف ایک ہی بیانیے پر چلے گی۔

