Uncategorizedبین الاقوامی خبریں

ایران دہانے پر؟ معاشی تباہی نے سیاسی نظام کو ہلا کر رکھ دیا

ایران اس وقت شدید معاشی بحران اور بڑھتے ہوئے سیاسی عدم اطمینان کی لپیٹ میں ہے، جہاں مہنگائی میں ہوشربا اضافے اور ایرانی ریال کی تاریخی گراوٹ نے عوام کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔ حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ یہ مظاہرے محض معاشی شکایات تک محدود نہیں رہے بلکہ اب براہِ راست حکومت کی اتھارٹی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔یہ احتجاجی لہر 28 دسمبر کو تہران میں تاجروں کی ہڑتال سے شروع ہوئی، جس نے جلد ہی پورے ملک میں زور پکڑ لیا۔ طلباء، مزدور اور متوسط طبقہ بھی اس تحریک میں شامل ہو چکا ہے، جس سے مظاہروں کا دائرہ وسیع اور شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مظاہرین بڑھتی ہوئی افراطِ زر، روزگار کے مواقع میں کمی اور کرنسی کی تیزی سے گرتی قدر پر شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ احتجاج 2022 کی مشہور "خواتین، زندگی اور آزادی” تحریک کے بعد اسلامی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال محض معاشی ناکامی کی عکاس نہیں بلکہ عوام کے اندر بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی، نظام سے مایوسی اور حکومتی پالیسیوں پر عدم اعتماد کی واضح علامت ہے۔اگر یہ مظاہرے اسی طرح پھیلتے رہے تو خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران کو ایک نئے سیاسی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو خطے کی سیاست پر بھی گہرے اثرات ڈالے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے