غیر ملکی شپنگ پر انحصار ختم کرنے کی جانب بڑی پیشرفت، پاکستان کا اپنا کنٹینر جہاز تیار
وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چودھری نے اعلان کیا ہے کہ کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں پاکستان کے پہلے قومی کنٹینر شپ کی تعمیر کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے، جسے ملک کے بحری شعبے میں ایک اہم اور تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق اس جدید کنٹینر جہاز کی تیاری سے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے بحری بیڑے کی استعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا، جبکہ غیر ملکی شپنگ کمپنیوں پر انحصار کم ہونے سے ملک کو کروڑوں ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت ممکن ہو سکے گی۔
جنید انوار چودھری نے کہا کہ یہ منصوبہ قومی بحری پالیسی کا اہم حصہ ہے، جس کا مقصد شپ بلڈنگ اور شپ ریپیئرنگ کے شعبے کو فروغ دینا اور مقامی وسائل و صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنا ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف سمندری تجارت کو تقویت ملے گی بلکہ سینکڑوں افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی تقریباً 95 فیصد تجارت سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے، لہٰذا ایک مضبوط، خودمختار اور جدید بحری بیڑا قومی معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی شپ یارڈ تیزی سے جدید بحری ترقی کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں جدید ٹیکنالوجی کے تحت جہاز سازی کے اہم منصوبے مکمل کیے جا رہے ہیں۔

