پاکستانی ٹک ٹاکر کی نازیبا وڈیو وائرل
انسٹاگرام پر 40 لاکھ سے زائد فالوورز رکھنے والی معروف پاکستانی ٹک ٹاکر مس واؤ حالیہ دنوں ایک پریشان کن صورتحال سے دوچار ہو گئی ہیں، جہاں سوشل میڈیا پر ان سے منسوب مبینہ ویڈیو لیک ہونے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف پلیٹ فارمز پر اس معاملے پر بحث کی جا رہی ہے، تاہم تاحال ویڈیو کے مستند ہونے یا اس کے پس منظر کے حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یہ واقعہ ان حالیہ تنازعات کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جن میں اس سے قبل مناہل ملک، امشا رحمان اور دیگر خواتین سوشل میڈیا شخصیات کے نام بھی سامنے آ چکے ہیں۔ ایسے واقعات نے ایک بار پھر ڈیجیٹل پرائیویسی، آن لائن سیکیورٹی اور سائبر قوانین پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سوشل میڈیا ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی مواد کو بغیر تصدیق پھیلانا نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ قانونی پیچیدگیوں کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ متاثرہ شخص کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

