کالمز

مارچ 1971 مشرقی پاکستان میں شروع ہونے والے آپریشن کے دوران شیخ مجیب الرحمٰن کو قتل کیوں نہیں کیا گیا ؟

تحریر: حذیفہ اشرف

جب شیخ مجیب الرحمن، ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل یحییٰ خان کے درمیان حکومت چلانے اور قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے معاملات طے نہ پا سکے تو حالات تیزی سے ہاتھ سے نکلنے لگے۔ مشرقی پاکستان میں پہلے ہی یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ کسی بھی وقت فوجی کارروائی ہو سکتی ہے، اسی لیے مکتی باہنی کے افراد نے پیشگی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔25 مارچ کی صبح تقریباً 11 بجے جنرل خادم حسین راجہ اپنے دفتر میں موجود تھے کہ اچانک مقامی ہاٹ لائن فون کی گھنٹی بجی، جو اعلیٰ فوجی افسران کے درمیان رابطے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ فون اٹھاتے ہی دوسری جانب سے جنرل ٹکا خان کی آواز آئی:”خادم، آج رات ۔”یہ بات طے ہو چکی تھی کہ اس رات کوئی بڑی کارروائی ہونے والی ہے، مگر یہ کارروائی کس حد تک جائے گی، اس کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ بنگالی عوام اس حقیقت سے بالکل لاعلم تھے کہ اس رات پاکستان کی تاریخ کا ایک خونی باب رقم ہونے والا ہے۔ ڈھاکہ میں موجود پاکستانی افسران کے درمیان بھی بے چینی، خوف اور افسوس کی فضا قائم تھی کہ ملک خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے اور حالات مکمل طور پر قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔فوجی کارروائی کے لیے رات کا وقت اس لیے مقرر کیا گیا تھا کہ جنرل یحییٰ خان جب تک بحفاظت کراچی ایئرپورٹ پر لینڈ نہ کر جائیں، آپریشن شروع نہ کیا جائے۔ خدشہ یہ تھا کہ بھارت کسی بھی لمحے حملہ کر سکتا ہے اور صدر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔دوسری جانب مکتی باہنی کے افراد نے مورچے سنبھال لیے تھے۔ انہیں یہ گمان تھا کہ وہ پاکستان آرمی کا بھرپور مقابلہ کر سکیں گے، مگر انہیں اندازہ نہیں تھا کہ اس رات فوج کا رویہ پہلے جیسا نہیں ہوگا بلکہ باقاعدہ ایک مکمل فوجی کارروائی کی جائے گی۔ ڈھاکہ شہر میں جگہ جگہ بنگالیوں نے رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں۔ اسلحہ بردار افراد سڑکوں پر موجود تھے اور پاکستان فوج کا سامنا کرنے کے لیے تیار نظر آ رہے تھے۔رات تقریباً 11 بجے وائرلیس سیٹ پر مقامی فوجی کمانڈر نے کارروائی شروع کرنے کی اجازت طلب کی، مگر جنرل ٹکا خان نے حکم دیا کہ ابھی صبر کیا جائے کیونکہ اندازہ تھا کہ جنرل یحییٰ خان کا طیارہ اس وقت سری لنکا کے آس پاس ہوگا۔ جب تک وہ کراچی بحفاظت نہ پہنچ جائیں، کارروائی شروع نہیں کرنی تھی۔جب چھاؤنی سے پہلا فوجی دستہ روانہ ہوا تو گیٹ کے قریب ہی اسے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ مکتی باہنی کے افراد نے سڑک پر ایک کٹا ہوا درخت رکھ کر راستہ بند کر رکھا تھا اور اسلحے کے ساتھ مورچہ سنبھالے ہوئے تھے۔ اب صورتحال اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ کارروائی شروع کرنا ناگزیر ہو گیا، کیونکہ فوجی دستہ سڑک پر آ چکا تھا اور واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا تھا۔فوراً فوجی کارروائی شروع کر دی گئی، جس کے نتیجے میں بنگالی افراد پسپا ہونے پر مجبور ہو گئے۔ کچھ ہی لمحوں میں پورے ڈھاکہ شہر میں فائرنگ کی آوازیں گونجنے لگیں۔ یوں فوجی آپریشن کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی خانہ جنگی تھی۔پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق ایک فوجی دستہ شیخ مجیب الرحمن کے گھر کے قریب پہنچا، جہاں انہیں گرفتار کیا جانا تھا۔ اسی دوران وائرلیس پر شیخ مجیب الرحمن کی آواز ریڈیو پاکستان پر نشر ہوئی، جس میں انہوں نے کہا:”شاید یہ میرا آخری پیغام ہو۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آج سے بنگلہ دیش آزاد ہے۔ میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جہاں بھی ہوں اور جو وسائل رکھتے ہوں، غاصب فوج کا مقابلہ کریں، یہاں تک کہ بنگلہ دیش کی سرزمین سے پاکستان کا آخری سپاہی نکل جائے۔”کچھ ہی دیر بعد پاکستان آرمی کا دستہ ان کے گھر میں داخل ہوا اور شیخ مجیب الرحمن کو گرفتار کر لیا گیا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ پہلے ہی گرفتاری دینے کے لیے ذہنی طور پر تیار بیٹھے تھے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کارروائی کے دوران، جب شیخ مجیب الرحمن کی حفاظت پر مامور مکتی باہنی کے کئی افراد مارے گئے، تو خود شیخ مجیب الرحمن کو کیوں قتل نہیں کیا گیا؟صدیق سالک اپنی کتاب "میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا” میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے قریبی دوست میجر بلال سے یہی سوال کیا۔ میجر بلال نے جواب دیا:”میرا بھی یہی ارادہ تھا، لیکن کارروائی سے کچھ دیر قبل جنرل مٹھا خان نے مجھے ذاتی طور پر طلب کیا اور حکم دیا کہ شیخ مجیب الرحمن کو زندہ گرفتار کر کے لایا جائے۔”شیخ مجیب الرحمن کو تقریباً تین سے چار روز بعد مغربی پاکستان منتقل کر دیا گیا۔ وہ اسی وقت اس قید سے رہا ہوئے جب بنگلہ دیش ایک آزاد ریاست بن چکا تھا۔

Home » مارچ 1971 مشرقی پاکستان میں شروع ہونے والے آپریشن کے دوران شیخ مجیب الرحمٰن کو قتل کیوں نہیں کیا گیا ؟
مزید پڑھیں: مارچ 1971 مشرقی پاکستان میں شروع ہونے والے آپریشن کے دوران شیخ مجیب الرحمٰن کو قتل کیوں نہیں کیا گیا ؟ مزید پڑھیں: مارچ 1971 مشرقی پاکستان میں شروع ہونے والے آپریشن کے دوران شیخ مجیب الرحمٰن کو قتل کیوں نہیں کیا گیا ؟

جنرل نیازی نے ہتھیار کیوں ڈالے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے