کالمز

“پاک–افغان تناؤ اور دہشت گردی: بدلتے علاقائی منظرنامے میں سلامتی کا نیا چیلنج”

پاکستان اور افغانستان جغرافیہ کے دو پڑوسی ضرور ہیں، مگر سلامتی، اعتماد اور مفادات کے اعتبار سے دونوں دہائیوں سے ایک غیر معمولی تناؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ دہشت گردی اس تعلق کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والا عنصر ہے۔ خطے کی بدلتی سیاست، عالمی قوتوں کی مداخلت اور افغان سرزمین پر موجود گروہوں کی آزادانہ سرگرمیوں نے پاکستان کے لئے ایک مستقل سلامتی کا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔افغان طالبان کی 2021 میں واپسی کے بعد پاکستان میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ شدت پسند گروہ اب مزید منظم نہیں رہ پائیں گے، مگر صورتحال اس کے برعکس ثابت ہوئی۔ تحریک طالبان پاکستان نہ صرف منظم ہوئی بلکہ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان میں متعدد حملے بھی کیے گئے۔ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کا دعویٰ ہے کہ دہشت گرد عناصر افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں اور کابل نے ان عناصر کے خلاف عملی کارروائی نہیں کی۔افغان حکومت کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ طالبان حکام کہتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیتے اور پاکستان کو اپنے داخلی مسائل خود حل کرنے چاہئیں۔ دونوں کے یہ بیانیے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔دہشت گردی کے مسئلے نے نہ صرف سلامتی کے معاملات کو متاثر کیا بلکہ تجارت، ٹرانزٹ، بارڈر ریگولیشن اور عوامی روابط کو بھی بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ پاک–افغان تجارت دو بار بند ہو چکی ہے، بارڈر پر مسلسل کشیدگی رہتی ہے، اور ایلچیوں کا تبادلہ بھی سخت جملوں کا شکار رہتا ہے۔ عام شہری، ٹرک ڈرائیور، دکاندار، اور بارڈر کے قریب رہنے والے لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔اصل چیلنج اعتماد کا بحران ہے۔ طالبان حکومت بین الاقوامی دباؤ کا شکار رہتی ہے جبکہ پاکستان مسلسل اس بات پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کو مزید برداشت نہیں کرے گا۔ اگر دونوں ممالک مشترکہ سرحدی میکانزم، انٹیلیجنس شیئرنگ اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر متفق نہ ہوئے تو یہ مسئلہ آنے والے برسوں میں مزید سنگین ہوسکتا ہے۔پاکستان اور افغانستان کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ امن کا فائدہ دونوں کو اور جنگ کا نقصان بھی دونوں کو ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عزم، بارڈر مینجمنٹ میں شفافیت، اور سیاسی سطح پر سنجیدہ مذاکرات ہی اس مسئلے کا واحد راستہ ہیں۔ وقت بتائے گا کہ کیا دونوں ممالک اس راستے پر چلنے کے قابل ہوں گے یا پھر خطہ اسی کشمکش کا شکار رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے