کوئٹہ میں دفعہ 144 کا نفاذ غیر آئینی اور غیر جمہوری ہے، حکومت بلدیاتی انتخابات سے خوفزدہ ہے: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی
کوئٹہ(پی کے نیوز) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے صوبائی حکومت کی جانب سے کوئٹہ شہر میں دفعہ 144 نافذ کرنے کے اقدام پر شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر آئینی، غیر جمہوری اور عوامی رائے کو دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔صوبائی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات کا باضابطہ اعلان ہو چکا ہے اور 28 دسمبر کو پولنگ ہوگی، تاہم صوبائی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر انتخابات کو بارہا ملتوی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بیان کے مطابق ایک جانب انتخابات مؤخر کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں جبکہ دوسری جانب سیاسی جمہوری جماعتوں، سماجی رہنماؤں، کارکنوں اور شہریوں کو انتخابی مہم سے روکنے کے لیے شہر میں خوف و ہراس کی فضا قائم کی جا رہی ہے اور دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے کہا کہ فارم 47 کی حکومت دراصل اپنی واضح شکست دیکھ رہی ہے، اسی لیے جمہوری رائے دہی پر اثر انداز ہونے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ بیان میں یاد دلایا گیا کہ 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں عوام کی حقیقی نمائندگی چھین لی گئی، زر و زور کے ذریعے ووٹ کے تقدس کو پامال کیا گیا اور سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے فارم 47 کی حکومت مسلط کی گئی۔بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ یہی حکومت ایک بار پھر فارم 47 اور سیاسی انجینئرنگ کے تحت عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جسے ناکام بنانا سیاسی جمہوری جماعتوں، جمہوری قوتوں اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ میں دفعہ 144 کا فوری خاتمہ کرایا جائے اور بلدیاتی انتخابات کے شفاف، غیر جانبدارانہ اور پرامن انعقاد کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے، تاکہ حکومتی ہتھکنڈوں کے ذریعے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کا راستہ روکا جا سکے۔

