قومی خبریں

عدالتی احکامات کے بعد انتخابی عمل جاری، پولنگ 28 دسمبر کو ہوگی

کوئٹہ (پی کے نیوز)بلوچستان ہائی کورٹ کی جانب سے درخواستیں مسترد کیے جانے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) نے کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا عمل شروع کر دیا تھا، جو اس وقت مختلف مراحل سے گزر رہا ہے۔صوبائی حکومت کی جانب سے کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن (QMC) کے انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کو الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد انتخابی شیڈول کے مطابق کارروائی آگے بڑھائی گئی۔الیکشن کمیشن کے مطابق امیدواروں کے لیے 13 سے 17 نومبر تک کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، جبکہ جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل بھی طے شدہ شیڈول کے تحت مکمل کیا گیا۔صوبائی الیکشن کمشنر علی اصغر سیال نے اس سے قبل بتایا تھا کہ انتخابی نشانات 6 دسمبر کو امیدواروں کو الاٹ کر دیے گئے ہیں، جبکہ پولنگ 28 دسمبر 2025 کو ہوگی اور نتائج 31 دسمبر کو جاری کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا تھا کہ انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پاک فوج، فرنٹیئر کور (FC) اور پولیس کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ بلوچستان کے 35 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ کوئٹہ میں یہ عمل قانونی رکاوٹوں کے باعث تاخیر کا شکار رہا۔الیکشن کمیشن نے کوئٹہ کے لیے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر، 17 ریٹرننگ آفیسرز اور 34 اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسرز تعینات کیے ہیں، جو اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات 172 یونین کونسلز اور 641 وارڈز میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔ شہر کو چار ٹاؤنز — چلتن، زرغون، تکاتو اور سریاب — میں تقسیم کیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق کوئٹہ میں 8 لاکھ 70 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز موجود ہیں، جن میں کینٹونمنٹ ایریاز شامل نہیں۔ 2017 کی مردم شماری کی بنیاد پر حد بندی کی گئی تھی، جس کے تحت سریاب میں 38، تکاتو میں 42 جبکہ چلتن اور زرغون میں 40، 40 یونین کونسلز قائم کی گئیں۔منتخب ہونے والے جنرل ممبران میٹروپولیٹن کارپوریشن تشکیل دیں گے، جس کے بعد خواتین (33 فیصد)، مزدور، اقلیتوں اور کسانوں (5، 5 فیصد) کے لیے مخصوص نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔ یہی نمائندگان بعد ازاں میئر اور ڈپٹی میئر کوئٹہ کا انتخاب کریں گے۔الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات شفاف، آزاد اور قانون کے مطابق کرائے جائیں گے۔ واضح رہے کہ یہ انتخابات حد بندی سے متعلق عدالتی تنازعات کے باعث گزشتہ دو برس سے التوا کا شکار تھے، تاہم اب انتخابی عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے