سرکاری صحت کے ادارے: مریض یا نظام، کون زیادہ بیمار ہے؟
تحریر: محمد سبحان
پاکستان میں اگر کسی شعبے کی حالت سب سے زیادہ تشویشناک ہے تو وہ ہے سرکاری صحت کا نظام۔ ایک ایسا نظام جس کا مقصد عوام کو سستی اور معیاری طبی سہولت دینا تھا، آج خود علاج کا محتاج نظر آتا ہے۔ سرکاری اسپتالوں کے باہر لمبی قطاریں، اندر بوسیدہ عمارتیں، ادویات کی قلت، عملے کی کمی اور بے بس مریض — یہ منظر کسی ایک شہر کا نہیں بلکہ پورے ملک کا المیہ بن چکا ہے۔ایک عام شہری جب بیماری کی حالت میں سرکاری اسپتال کا رخ کرتا ہے تو اس کے ذہن میں امید ہوتی ہے کہ کم از کم بنیادی علاج میسر ہوگا۔ مگر اکثر اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی ڈاکٹر دستیاب نہیں، کبھی ٹیسٹ کی سہولت بند، تو کبھی ضروری دوا اسٹور میں موجود نہیں ہوتی۔ نتیجتاً غریب مریض پرائیویٹ اسپتال جانے پر مجبور ہوتا ہے، جہاں علاج اس کی مالی استطاعت سے باہر ہوتا ہے۔یہ سوال اہم ہے کہ آخر سرکاری صحت کے ادارے اس حد تک کمزور کیوں ہو چکے ہیں؟اس کے پیچھے کئی بنیادی وجوہات ہیں۔سب سے پہلی وجہ ناکافی بجٹ ہے۔ پاکستان میں صحت کے شعبے کے لیے مختص بجٹ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ ایک ایسی ریاست جہاں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہو، وہاں صحت کے لیے مناسب وسائل نہ ہونا سنگین غفلت ہے۔ بجٹ کم ہونے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسپتالوں میں جدید مشینری نہیں آتی، ادویات کی فراہمی متاثر ہوتی ہے اور انفراسٹرکچر پر توجہ نہیں دی جاتی۔دوسری بڑی وجہ انتظامی بدعنوانی ہے۔ کئی اسپتالوں میں ادویات اور طبی آلات کی خریداری میں کرپشن کے الزامات عام ہیں۔ بعض اوقات دوائیں سرکاری ریکارڈ میں موجود ہوتی ہیں مگر مریض کو نہیں ملتیں۔ تحقیق کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ ادویات نجی میڈیکل اسٹورز میں فروخت ہو رہی ہیں۔ یہ عمل نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔تیسری اہم وجہ طبی عملے کی کمی اور عدم توجہی ہے۔ پاکستان میں ایک بڑی تعداد میں ڈاکٹر اور نرسز بیرون ملک جا رہے ہیں کیونکہ وہاں بہتر سہولیات اور تنخواہیں میسر ہیں۔ نتیجتاً سرکاری اسپتال تجربہ کار عملے سے محروم ہو رہے ہیں۔ جو عملہ موجود ہے، اس پر مریضوں کا بوجھ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ معیاری سروس دینا مشکل ہو جاتا ہے۔دیہی علاقوں کی صورت حال تو اور بھی افسوسناک ہے۔ کئی دیہات میں بنیادی صحت مراکز تو بنے ہوئے ہیں، مگر ان میں ڈاکٹر مستقل موجود نہیں ہوتے۔ بعض جگہوں پر عمارت تو موجود ہے مگر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ نتیجتاً دیہی آبادی کو معمولی بیماری کے علاج کے لیے بھی شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔کورونا وبا نے پاکستان کے صحت کے نظام کی کمزوریوں کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا تھا۔ اس وقت واضح ہو گیا کہ ہمارے پاس نہ مناسب وینٹی لیٹرز ہیں، نہ ٹیسٹنگ کی سہولت اور نہ ہی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا مؤثر نظام۔ اگرچہ اس بحران کے بعد کچھ بہتری ضرور آئی، مگر مجموعی نظام اب بھی کمزور ہے۔ایک اور بڑا مسئلہ ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ سرکاری اسپتال اگر مفت دوائیں فراہم نہ کریں تو غریب مریض کے لیے علاج جاری رکھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں صحت کی سہولت تک رسائی امیروں اور غریبوں کے درمیان فرق کو مزید بڑھا رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا اس صورتحال کا کوئی حل موجود ہے؟یقیناً موجود ہے، مگر اس کے لیے سنجیدہ اقدامات درکار ہیں۔سب سے پہلے حکومت کو صحت کے بجٹ میں واضح اضافہ کرنا ہوگا۔ اسپتالوں کی اپ گریڈیشن، جدید مشینری اور ادویات کی بروقت فراہمی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ خریداری کے نظام میں شفافیت لانا ضروری ہے تاکہ کرپشن کا راستہ روکا جا سکے۔دوسرا، ڈاکٹرز اور نرسز کے لیے بہتر سہولیات اور مراعات فراہم کی جائیں تاکہ وہ ملک چھوڑنے پر مجبور نہ ہوں۔ اگر طبی عملے کو عزت، تحفظ اور مناسب تنخواہ ملے گی تو وہ دلجمعی سے خدمات انجام دیں گے۔تیسرا، دیہی علاقوں کے بنیادی صحت مراکز کو فعال بنانا ہوگا۔ اگر ہر یونین کونسل کی سطح پر مؤثر طبی سہولت موجود ہو تو بڑے اسپتالوں پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔چوتھا، عوام میں صحت سے متعلق آگاہی مہمات چلائی جائیں تاکہ بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔ اگر احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں تو اسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ خود بخود کم ہو جائے گا۔آخر میں سب سے اہم کردار عوامی نگرانی کا ہے۔ جب تک عوام اپنے حق کے لیے آواز نہیں اٹھائیں گے، نظام بہتر نہیں ہوگا۔ صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے، کوئی احسان نہیں۔یہ حقیقت ہے کہ ایک صحت مند قوم ہی ترقی یافتہ قوم بن سکتی ہے۔ اگر ہمارے سرکاری صحت کے ادارے کمزور رہیں گے تو ملک کی مجموعی ترقی بھی متاثر ہوگی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں، کیونکہ اگر نظام بیمار رہا تو مریضوں کا علاج کون کرے گا؟کیا ہم ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں علاج صرف امیروں کا حق ہو؟اگر نہیں، تو پھر آج فیصلہ کرنا ہوگا۔

