سرینا ہوٹل کی بندش: حادثہ یا سازش؟ سوات میں 40 سالہ لیز ختم کرنے کے پیچھے خفیہ پلان بے نقاب
سوات کے تاریخی اور معروف سرینا ہوٹل کی بندش کو محض ایک انتظامی فیصلہ قرار دینا اب ممکن نہیں رہا۔ باخبر ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ہوٹل کی 40 سالہ لیز ختم کرنے کا فیصلہ ایک منظم منصوبہ بندی کا حصہ ہو سکتا ہے، جس کا مبینہ مقصد قیمتی عمارت کو من پسند افراد کے حوالے کرنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرینا ہوٹل سوات کی سیاحت کی ایک نمایاں علامت سمجھا جاتا تھا، جو نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے بھی ایک معتبر شناخت رکھتا تھا۔ اچانک لیز کے خاتمے اور ہوٹل کی بندش نے سیاحتی حلقوں، سرمایہ کاروں اور عوام میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے سوات کے سیاحتی تشخص اور سرمایہ کاری کے ماحول کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شفاف طریقہ کار اور واضح وضاحت کے بغیر کیے گئے ایسے اقدامات نہ صرف اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں بلکہ صوبے کی سیاحت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
عوامی اور سیاحتی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت اس فیصلے کی مکمل تفصیلات منظرِ عام پر لائے اور واضح کرے کہ آیا یہ اقدام واقعی عوامی مفاد میں ہے یا پس پردہ مخصوص عناصر کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

