قومی خبریں

خودکش حملے حرام، دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں: حافظ طاہر اشرفی

پشاور میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف مذہبی اسکالر اور چیئرمین قومی پیغامِ امن کمیٹی حافظ طاہر محمود اشرفی نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ دہشت گردی، خودکش حملے اور بے گناہوں کا قتل اسلام، شریعت اور انسانیت سے کسی صورت تعلق نہیں رکھتا۔حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ خودکش حملوں کے خلاف سب سے پہلا فتویٰ بھی علما کرام نے ہی دیا تھا، جس میں واضح کیا گیا کہ معصوم جانوں کا قتل حرام ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا اس وقت دہشت گردی کا براہِ راست نشانہ بن رہا ہے اور یہاں بے گناہ شہریوں کو مسلسل ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے شہدا پر فخر ہے جنہوں نے ملک، قوم اور امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ جو لوگ پاکستان اور اس کے آئین کو تسلیم کرتے ہیں، ان کے لیے امن کے تمام راستے کھلے ہیں، تاہم جو آئین اور ریاست کو نہیں مانتے، وہ انتشار اور فساد کے ذمہ دار ہیں۔حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ پیغامِ پاکستان آئینِ پاکستان کے بعد سب سے مضبوط قومی دستاویز ہے، جس پر تمام مکاتبِ فکر کے علما کا اتفاق موجود ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی ملک کے ہر شہر میں جا کر امن، اتحاد اور رواداری کا پیغام پہنچائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ علما کرام ریاستِ پاکستان اور سلامتی کے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں جبکہ افواجِ پاکستان ملک کے دفاع اور قیامِ امن کے لیے لازوال قربانیاں دے رہی ہیں۔ افغان بھائیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان نے ان کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، مگر آج یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا ان قربانیوں کا صلہ یہ ہے کہ ہمارے ہی ملک میں بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایا جائے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے