قومی خبریں

اقوام متحدہ کی تہلکہ خیز رپورٹ: عمران خان کی قید ’’نفسیاتی تشدد‘‘ قرار، پی ٹی آئی کا عالمی برادری سے فوری ایکشن کا مطالبہ

پاکستان تحریک انصاف نے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے تشدد محترمہ ایلس جل ایڈورڈز کی چونکا دینے والی رپورٹ پر سخت اور دوٹوک ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید محض سیاسی انتقام نہیں بلکہ ریاستی سطح پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔پی ٹی آئی کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ نے اُن خدشات کی تصدیق کر دی ہے جن کی نشاندہی جماعت طویل عرصے سے کرتی آ رہی تھی۔ رپورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کو 23 گھنٹے قیدِ تنہائی، مسلسل کیمرہ نگرانی، بیرونی دنیا سے مکمل کٹاؤ، وکلاء اور اہل خانہ سے ملاقاتوں میں رکاوٹ، مذہبی عبادات سے محرومی اور بنیادی انسانی سہولیات سے انکار کو نفسیاتی تشدد قرار دیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے معیار کے مطابق 15 دن سے زائد قیدِ تنہائی ذہنی تشدد کے زمرے میں آتی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ عمران خان مہینوں سے اس غیر انسانی سلوک کا شکار ہیں۔ جماعت نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ ایک 72 سالہ قیدی، جو ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ، ماضی کے قاتلانہ حملے کے زخموں اور دیگر طبی مسائل میں مبتلا ہے، اسے مناسب طبی سہولیات تک رسائی سے محروم رکھا جا رہا ہے، جو ایک دانستہ اور سفاکانہ اقدام ہے۔پاکستان تحریک انصاف نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کی قیدِ تنہائی فوری ختم کی جائے، جیل میں بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں، ذاتی معالجین کو فوری رسائی دی جائے اور عدالتی احکامات کے مطابق ملاقاتوں میں حائل تمام رکاوٹیں ختم کی جائیں۔پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اب کسی ایک سیاسی رہنما تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ پاکستان میں قانون کی بالادستی، انصاف اور انسانی حقوق کی ساکھ کا کڑا امتحان بن چکا ہے۔ اگر یہ سلوک بند نہ ہوا تو تاریخ اسے حکومتی سرپرستی میں ہونے والا بدترین تشدد قرار دے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے